ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کانگریس نے بی ایس این ایل معاملے پر مودی حکومت کو گھیرا، بولی کمپنی ڈبونے میں حکومت لگی

کانگریس نے بی ایس این ایل معاملے پر مودی حکومت کو گھیرا، بولی کمپنی ڈبونے میں حکومت لگی

Sun, 14 Jul 2019 20:31:19    S.O. News Service

نئی دہلی، 14 جولائی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) پبلک سیکٹر کی کمپنی بھارت سنچار نگر لمیٹڈ (بی ایس این ایل) کے معاملے پر کانگریس نے مودی حکومت پر نشانہ لگایا ہے۔کانگریس کے میڈیا انچارج رندیپ سنگھ سرجیوالا نے کہا کہ سرمایہ دار دوستوں کے دوستانہ بی جے پی حکومت نے بی ایس این ایل کو ڈبونے کا مکمل منصوبہ بنا لیا ہے۔بقایا بجلی بل کے سبب بی ایس این ایل کے 1083 ٹورس اور 524 ایکسچینڈ ٹھپ ہو گئے ہیں جس سے کروڑوں یوزرس پریشان ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کی منشا تل تل کر بی ایس این ایل کو کمزور کرنے کی قواعد ہے تاکہ اسے فروخت کیا جا سکے۔ابھی حال ہی میں میڈیا میں جاری خبروں کو افواہ بتا کر مسترد کرتے ہوئے بی ایس این ایل نے کہا کہ کمپنی کو بند کرنے کی کوئی تجویز نہیں ہے۔کمپنی نے ایک بیان میں کہاکہ بی ایس این ایل کو بند کرنے کی کوئی تجویز نہیں ہے، جیسا کہ میڈیا کے ایک طبقے کی جانب سے رپورٹیں میں کہا جا رہا ہے۔سخت مقابلہ اور ٹیرف کم ہونے کی وجہ سے، بی ایس این ایل گزشتہ چند ماہ سے مالی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ بیان کے مطابق مرکزی حکومت بی ایس این ایل کو دوبارہ کھڑا کرنے کے لئے سرگرمی سے ایک منصوبہ بنا رہی ہے، جسے کابینہ کی منظوری کے لئے بھیجا جائے گا۔انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر روی شنکر پرساد کی جانب سے لوک سبھا میں دیے گئے ایک تحریری جواب کے مطابق، بی ایس این ایل کے لیے مالی سال 2018-19 میں 14000 کروڑ روپے کا خسارہ ہونے کا اندازہ ہے جبکہ اس کا آمدنی قریب 19308 کروڑ روپے رہنے کا اندازہ ہے۔


Share: